Friday, December 30, 2016

ثنا خوان رسول جنید جمشید حضرت پیر بکوٹی کے سسرالی پجہ شریف کے قاضیوں کے داماد تھے
  ان کی اہلیہ نیہا جمشید پجہ شریف میں پیر بکوٹیؒ کی اہلیہ گل نقشہ بیگم (مائی صاحب) کے سگے بھتیجے ٹیچر عبدالرحمان کی پوتی تھیں
، انتقال کے فوراً بعد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کی اہلیہ کرنل یاسمین اپنی دو بچیوں مریم ضیا اور سحرش ضیا کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئیں تھیں

**************************

تحقیق و تحریر

محمد عبیداللہ علوی 

**************************

ثنا خوان رسول جنید جمشید مرحوم کے ساتھ طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والی ان کی اہلیہ نیہا جمشید کا تعلق حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؓ کے آزاد کشمیر میں چکار کے قریب درگاہ پجہ شریف کے قاضی خاندان سے تھا اور وہ پجہ شریف میں ان کی اہلیہ گل نقشہ بیگم (مائی صاحب) کے سگے بھتیجے ٹیچر عبدالرحمان کی پوتی تھیں ، نیہا جمشید کا اصل نام مریم ضیا تھا جبکہ ان کے والد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کا19 فروری 1992  کو دوران سروس انتقال ہوا تھا، انتقال کے فوراً بعد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کی اہلیہ میانوالی کے اعوان قبطیلہ سے تعلق رکھنے والی کرنل یاسمین اپنی دو بچیوں مریم ضیا اور سحرش ضیا کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئیں تھیں۔
یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ ۔۔۔۔ ہر ماں کو اپنا بچہ نو ماہ تک اپنے پیٹ میں رکھ کر ہی اسے دنیا میں لانا پڑتا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔۔۔۔ اس لیبر کے عوض ماں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بعد سب سے بڑا مقام ملتا ہے،ماں کو اولاد کیلئے دنیا کی سب سے بڑی ہستی قرار دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ایک انسان کے بعد از مرگ سب سے بڑے خواب یعنی جنت الفردوس کو بھی ماں کے قدموں تلے رکھ دیا گیا ہے ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ ماں جب اپنی اولاد کو اپنے ان لہو کے رشتوں یعنی ددھیالیوں سے ہی متنفر کر دے ۔۔۔۔ انہیں ان کی اصل کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ۔۔۔۔ انہیں حالات کے حوالے کر کے بے نسب اور بے اصل بنا دے، ان کے رشتے ناطے میں بھی اس کے ان خونی رشتوں کو بلایا جائے نہ ان سے کوئی صلاح ہی کی جائے تو وہ زندگی بھر اپنی شناخت کو دھونڈتے رہتے ہیں ۔۔۔ تو میرے خیال میں ۔۔۔ ایسی عورت ماں کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی ۔۔۔ وہ اولاد جننے والی ڈائن اور خود ایک بے نسبی اور بے اصلی عورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ جنید جمشید کی اہلیہ نیہا جمشید کے ساتھ بھی ایسا ہی المیہ ہوا  ہے ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔ اگر جنید جمشید جیسا عاشق رسول اس بات سے آگاہ ہوتا کہ ۔۔۔۔ نیہا (مریم ضیا) کا تعلق ۔۔۔۔ آزاد کشمیر ، ہزارہ اور سرکل بکوٹ کے مجدد حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کے اس محسن خاندان سے ہے جس نے  ۔۔۔ در یتیم  پیر فقیراللہ
بکوٹیؒ کی پرورش کی ، انہیں جوان کیا اور ان کے عقد میں اپنی بیٹی بھی دی ۔۔۔۔ تو جنید جمشید پجہ شریف اور بکوٹ شریف سر کے بل چل کر آتے اور حضرت پیر بکوٹیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے۔۔۔۔ کاش ایسا ہوتا
مریم ضیا (نیہا جمشید) اور سحرش ضیا (رمشا ضیا) کے والد کرنل  قاضی ضیا الرحمان انور کے والد قاضی عبدالرحمان ریالہ اور مولیا میں استاد بھی رہے، ان کے قاضی ضیا کے علاوہ دو اور فرزند بھی ہیں، ایک قاضی سجاد تھے جن کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے اور سب سے چھوٹے قاضی محمودالرحمان مظفر آباد میں ٹیچر ہیں، ان کے دادا قاضی ولایت اللہ بھی چار بھائی تھے جن میں سے قاضی ولی احمد ۔۔۔۔ حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی کے خسر تھے، ان کی بیٹی ۔۔۔۔ گل نقشہ بیگم ۔۔۔ پیر بکوٹی کی سب سے چھوٹی اور آخری اہلیہ تھیں، ان کا مزار مائی صاحبہ کے نام سے پجہ شریف میں موجود ہے اور یہاں پر ہر سال نومبر میں قاضی محمود الرحمان عرس بھی کرواتے ہیں۔
بیروٹ کے علوی اعوان اور پجہ شریف کا قاضی خاندان قومی کوٹ آزاد کشمیر کے حافظ جان محمد کی اولاد سے ہیں اور یوں اج کے قومی کوٹ، رحیم کوٹ،پجہ شریف وغیرہ کے قاضی صاحبان اور بیروٹ کے علوی آعوان آپس میں کزنز ہیں، اعوان مورخ محبت حسین اعوان نے اپنی کتاب ۔۔۔۔ تاریخ علوی آعوان (مطبوعہ1999 کراچی) ۔۔۔ کے صفحہ 772 پر ایک تفصیلی شجرہ نسب دیا ہے جس میں پجہ شریف کے قاضیوں اور بیروٹ کے علوی اعوانوں کی تفصیلات موجود ہیں ۔۔۔ بیروٹ میں علوی اعوانوں کے جد امجد ۔۔۔ مولانا قاضی نیک محمد علوی 1830-40 کے درمیان یہاں کے کاملال ڈھونڈ عباسی خاندان کی دعوت پر تشریف لائے، انہیں یہاں جائیداد بھی ہبہ کی گئی اور انہوں نے محمود خان عرف بھاگو خان، عاقی خان اور دیگر کے ساتھ مل کر بیروٹ کی دوسری جامع مسجد بھی تعمیر کی،اسی مسجد میں حضرت پیر بکوٹیؒ نے بھی تقریباً دس سال تک امامت و خطابت فرمائی اور کوہسار بھر میں اسی مسجد میں پہلی بار نماز جمعہ کا بھی 1907 میں آغاز کیا، کاملال ڈھونڈ عباسی خاندان نے انہیں بھی سترہ کنال اراضی ہبہ کی، یہاں پر ہی انہوں راقم الحروف کے پڑدادا حضرت مولانا قاضی عبدالعزیز علوی کی بیوہ بیٹی ستر جان سے عقد کیا، ان کے بیٹے حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹیؒ میرے دادا حضرت مولانا قاضی میاں میر جی کے داماد تھے، میرے چچا اور مفتی سرکل بکوٹ مولانا عبدالہادی علوی ۔۔۔۔ پیر بکوٹیؒ کے پوتے صاحبزادہ عبدالماجد ماجد بکوٹیؒ کے خسر ہیں جبکہ ۔۔۔۔ میرا  بھتیجا اور سابق ٹیچر محمد طاہر علوی مرحوم کا بڑا بیٹا طیب طاہر علوی ۔۔۔۔ صاحبزادہ عبدالماجد بکوٹیؒ کا داماد ہے ۔۔۔۔ جب پیر بکوٹیؒ کے ساتھ راقم الحروف اتنے رشتوں میں پرویا ہوا ہو تو ۔۔۔ پیر بکوٹیؒ سے متعلق ہر نیوز اس کی اپنی خبر ہوتی ہے  اور وہ اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔۔۔ جنید جمشید کی رشتہ داری پر بیروٹ کے علوی اعوانوں کو بھی فخر ہے ۔۔۔۔ کاش ایک بے اصل اور بے نسب خاتون کی انا آڑے نہ آتی۔۔۔ اور یہ ثناخوان رسول گلشن پیر بکوٹیؒ کا بھی بُلبل ہوتا۔

No comments:

Post a Comment