Sunday, November 22, 2015

First Urs ceremony of Pir Bakoti after death of Sahibzada Pir Azher Bakoti
Held on 
22 Nov, 2015

بکوٹ شریف: سجادہ نشین صاحبزادہ پیرمحمدزائربکوٹی عرس کے اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
**************************************
ہفت روزہ نوائے مری، 14 اگست، 2916


*****************************
زبان میری ہے بات ان کی،انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی، انہی کی محفل سجا رہا ہوں
 سجادہ نشینی کے بعد 
صاحبزادہ پیرمحمدزائربکوٹی
 کا پہلا انٹرویو
**************************************
ملاقات: عبیداللہ علوی
**************************************


حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی کوہسار کے ایک جید عالم دین ہی نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کے وہ مجددہیں جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے سد سکندری کھینچ کر کفرو الحاد کے اس سونامی سے اہل اسلام کو بچا کر سرخرو کیا، آپ نے ہزارہ، کشمیر اور بالخصوص سرکل بکوٹ میں نہ صرف نماز جمعہ کا آغاز کیا بلکہ یہاں پر رائج قربانی کے جانوروں کا خون کو مقدس مشروب سمجھ کر پینے کی رسم قبیح کا بھی خاتمہ کیا، حضرت پیر بکوٹیؒ  کے وصال کو 93برس ہو چکے ہیں اور ان کے فیض کا چشمہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے، آپ کے 94عرس کے موقع پران کے پوتے اور موجودہ سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی سے ایک روزنامہ آئینہ جہاں نے پہلا انٹرویو کیا گیا جو نذر قارئین ہے:۔
سوال:حضرت پیر بکوٹی  اپنے عہد کے مجدد تھے،انہوں نے کوہسار میں فکری، تمدنی اور فکری محاذ پر کیا کیا اصلاحات اور اقدامات کئے؟
جواب:حضرت پیرفقیراللہ بکوٹی  جو عرف عام میں حضرت صاحب کے نام سے بھی مشہور ہیں ایک ایسے عہد میں کوہسار تشریف لائے جب یہاں کے باسی یاسیت اور نا میدی کے سمندر میں غوطے لگا رہے تھے،انہوں نے لوگوں کو اس بحر ظلمات سے نکال کر نیا جوش، ولولہ اور جینے کی امید بخشی اور ان کی منازل بلندیوں پر متعین کیں،یہاں پر سب سے پہلے فروغ تعلیم اور پھر کشمیر میں انٹی ڈوگرہ کارروائیوں کے لئے تحریک المجاہدین کی بنیاد ڈالی اور اس کی عمر بھر آبیاری بھی کرتے رہے۔
سوال: حضرت پیر بکوٹی کے خانوادے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور کہا بھی جا رہا ہے، پیر صاحب کے خاندانی پس منظر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: حضرت پیر بکوٹی اپنے عہد کے ایک مجدد تھے اور انہوں نے اپنے ایمان افروز اقدامات سے کوہسار کے سماج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، ایسی شخصیات اس وقت ظہور پزیر ہوتی ہیں جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے، حضرت پیر بکوٹی کا تعلق ہزارہ سے تھا اور ان کے والدین بسلسلہ تنلیغ دین کشمیر آئے تھے، انہوں نے چکار کے علاقے پجہ شریف کے نواح میں کنڈان شکریاں اور بعد میں چھپڑیاں میں قیام کیا ، یہ مقام کوہالہ کی جانب ایک گزرگاہ پر تھا جہاں سے ہر وقت  مسافر گزرتے رہتے تھے جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل تھے، حضرت پیر بکوٹی کے والدین نے عوام علاقہ کے تعاون سے یہاں ایک لنگر خانہ قائم کیا اور مسافروں کی خدمت کرنے لگے، اس کا اثر یہ ہوا کہ اس پسماندہ علاقے کو نہ صرف شہرت  ملی بلکہ یہاں پر ایک بازار بھی بن گیا اور حضرت پیر بکوٹی کی کوششوں سے مقامی لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی، صرف اتنا ہی نہیں ہوا بلکہ جب سکھوں نے کشمیر پر یلغار کی تو پونچھ بھر سے لوگوں نے پناہ کیلئے اسی مقام کو منتخب کیا اور سکھوں کے خلاف بے جگری سے لڑ کر اسے دارالامن بنا دیا،لگ بھگ 1830-35ء کے دوران حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کی ولادت ہوئی، آپ سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، ان کے دو بھائی اور بھی تھے، بڑے بھائی بعد میں خاکی جا کر آباد ہوئے اور ان کی اولاد آج بھی وہاں پر موجود ہے جبکہ چھوٹے بھائی بنگال چلے گئے اور پھر واپس نہیں آئے، حضرت پیر بکوٹیؒ ابھی دس سال کے ہی تھے کہ پہلے ان کی والدہ ماجدہ اور چھ ماہ بعد ان کے والد مولانا تاج محمد بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے،  ایسے میں ان کی اور ان کے دیگر بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری پجہ شریف کے قاضی خاندان نے سنبھالی جہاں ان کی ایک ہمشیرہ بیاہی ہوئی تھی، آپ سولہ سال کی عمر تک وہاں ہی رہے اور پھر رجوعیہ شریف (حویلیاں) آ گئے اور اس وقت کے عصری اور دینی علوم میں سند فراغت  حاصل کیٍ، اپنے استاد محترم کے کہنے پر آپ سوات چلے گئے جہاں آپ نے حضرت پیر عبدالغفور اخوند صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور سلوک کی منازل میں بھی کاملیت حاصل کی اسی عرصہ میں انہوں نے  سکھوں کی خون آشامی بھی دیکھی اور جہادمیں حصہ لیا اور اس کے بعد اپنے مرشد کے حکم سے وہ کشمیر آگئے اور عملی تبلیغ دین کی شروعات کا آغاز کیا۔
سوال:جب ہم حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی ؒکی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان ؎ کی حیات کے دو مشن ملتے ہیں، ایک اقاجمعہ المبارک،  دوسرا مساجد کا قیام،اس کے بارے میں آپ  کیا کہیں گے؟
جواب: اللہ تبارک و تعالیٰ کا حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ پر کرم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عہد کے جن علماء اور فضلاء سے استفادہ کیا ان میں سب سے اہم حضرت مولانا عبدالغفور سواتی المعروف اخوند صاحب ہیں، یہاں پر ہی آپ نے سلوک کی منازل بھی تہہ کیں، یہ زمانہ بڑا پر آشوب تھا اور سکھ مسلمانوں کی جا، مال اور عزت و آبرو سے کھیل رہے تھے،سکھ فوجوں کا سپہ  سا؛ار ہری سنگھ نلوہ جس جانب بھی جاتا لاشوں کے انبار لگا دیتا،حضرت پیر بکوٹی نے اس کیخلاف بھی اپنے پیر و مرشد کے حکم سے جہاد میںؓ حصہ لیا اور ہمیشہ کامیاب رہے،سکھوں کے طوفان بد تمیزی کے خاتمہ کے بعد پیر بکوٹی کو کوہسار اور کشمیر جانے کا حکم ملاتو آپ پھر کشمیر کے علاقے پجہ شریف آگئے،یہاں پر آپ نے مسجد کی تعمیر نو کی اور مدرسہ قائم کیا،یہاں سے فراغت کے بعد وہ پوٹھہ شریف تشریف لائے یہاں پر آپ نے حضرت پیر ملک سراج خان کی مسجد کی ڈھونڈ عباسیوں کے تعاون سے تعمیر نو کرائی اورلگ بھگ 1860ء وہاں پر پہلی بار نماز جمعہ کا آغاز کیا،اس کے بعد اوسیا ،بیروٹ اور آخر میں 1907ء میں آپ نے بکوٹ اور مولیا میں نماز جمعہ کی شروعات کیں۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی کی نماز جمعہ شروع کرانے میں کیا حکمت عملی کار فرما تھی؟
جواب:نماز جمعہ کا مطلب ایک اجتماع ہوتا ہے،حضرت پیر بکوٹی اس وقت کے حالات کے مطابق سمجھتے تھے کہ یہاں کے مسلمانوں کو کم از کم ایک ہفتے میں مل بیٹھنا چائیے،کیونکہ یہاں کے ہندو اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی سرپرسرستی میں مسلمانوں کا اقتصادی اور سیاسی استحصال کر رہے تھے،دوسری طرف مقامی علمائے کرام حضرت پیر بکوٹی کے نماز جمہ کی اقامت کے خلاف کمر بستہ تھے مگر انہوں نے اس کی پروا کئے بغیر اپنا مشن  یعنی نماز جمعہ کی اقامت کا آغاز کر ہی ڈالا، یہ آپ کا ایسا کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تابندہ و پائندہ رہے گا۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی  نے مرزائیت کو کوہسار میں آنے اور بڑھنے سے روکنے کیلئے بھی جہاد کیا، مگر کیسیـ؟
جواب: جی پاں۔۔۔۔۔۔ حضرت صاحب کی دور اندیش نگاہیں دیکھ رہی تھی کہ انگریزوں کی سرپرستی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلے کوہسار کے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،یہ بھی روایت ہے کہ بیروٹ میںحضرت صاحب کے ایک برادر نسبتی مولانا میاں محمد جی اور اور ان کی اولاد مرزائی ہو چکے تھے یا ہونے والے تھے مگر حضرت صاحب کی مداخلت سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا،اوسیا میں قادیانیوں نے ایک مشنری سکول کھولنا چاہالیکن حضرت پیر بکو ٹی  نے یہ سازش بھی ناکام بنا دی،اسی طرح جب انیسویں صدی کے آخری عشرے میں انگریزی حکام نے کوہالہ اور کشمیری بازارمری میں قحبہ اور شراب  خانے کھولنے کی کوشش کی تو آپ نے اہلیان مری اور سرکل بکوٹ کے تعاون سے انہیں نذر آتش کروا دیا، یوں اہلیان کوہسار کفر کے طوفان سے بچ گئے بلکہ یہں پر فحاشی اور نشہ کے اڈوں کا بھی خاتمہ ہو گیا جو حضرت پیر بکو ٹی کا اس علاقے پر احسان عظیم ہے۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی کی درگاہ کے آج کل آپ گدی نشین ہیں، یہاں پر گدی نشینی کے معاملات کیسے آگے بڑھے، کیا کوئی مشکل وغیرہ تو پیش نہیں آئی؟
جواب: حضرت پیر بکو ٹی کاجب 1922ء میں وصال ہوا تو اس وقت آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت پیرعتیق اللہ بکو ٹی کی عمر 10اور چھوٹے صاحبزادے حضرت پیرحقیق اللہ بکو ٹی کی عمر صرف پانچ سال تھی،آپ کے خلفاء نے ان دونوںفرزندان حضرت پیر بکو ٹی کو ابتدائی تعلیم مڈل سکول بکوٹ میں دلوا کر بر صغیر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند بجھوا دیا جہاں  وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا عبیداللہ سندھی اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کے تلامذہ بنے، جب یہ صاحبزادگان واپس وطن ّئے تو سجادہ نشینی کی یہ امانت بزرگ مولوی صاحب نے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا پیر عتیق اللہ بکوٹی کے سپرد کی ، اس وقت بھی انہوں نے اپنے رفقا مولانا غلام حیدر، مولانا عطاء اللہ (آزاد کشمیر) مولانا اسماعیل علوی (بئروٹ)،مولانا سعید الشمیری اور راجہ نور خان (روات)، لنگر کے منتظمین اور حضرت پیر بکو ٹی کے سوتیلے ببیٹوں محمد صدیق، محمد رفیق اور محمد شفیق کے علاوہ دیگر صاحب الرائے حضرات سے مشاورت کی، کچھ عرصہ بعد سجادہ نشین حضرت مولانا پیر عتیق اللہ بکوٹی  جذب اور حالت استغراق میں چلے گئے جس پر انہوں نے درگاہ پیر بکوٹی کے معاملات  اپنے چھوٹے بھائی صاحبزادہ حضرت پیرحقیق اللہ بکو ٹی کے سپرد کرنا چاہے تا ہم اس وقت بھی اس معاملے بر کافی روز مشاورت کے بعد اس شرط پر انتظامات سنبھالے کہ سجادہ نشین تو صاحبزادہ حضرت  پیر عتیق  اللہ بکو ٹی ہی رہیں گے وہ صرف منتظم ہوں گے اور انہوں نے اپنا یہ فریضہ بھر پور طریقہ سے اپنی آخری سانسوں تک انجام دیتے رہے،صاحبزادہ حضرت پیرعتیق اللہ بکو ٹی کی وفات کے بعد آپ نے سجادہ نشینی کا منصب سنبھالاجو 1968ء تک ان کی وفات تک جاری رہا، اس کے بعد میرے برادر بزرگ صاحبزادہ پیراظہر بکوٹی سجادہ نشین بنے اور کی وفات کے بعد دراگاہ کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد سجادہ نشینی کی دستار میرے سر پر رکھی گئی۔
سوال: آپ سجادہ نشین ہیں اور اپنے علاقے کی اہک سرکردہ سیاسی شخصیت بھی،آپ درگاہ کے معاملات چلانے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں؟
جواب:میرے والد حضرت  پیر عتیق اللہ بکو ٹی اپنے زمانے کے ایم ایل اے تھے، برادر بزرگ صاحبزادہ اظہر بکوٹی ممبر ضلع کونسل رہے مگر انہوں نے روحانی فیض اور سیاست کو گڈ مڈ نہیں کیا، اسی طرح درگاہ کے معاملات کو بھی شریعت کے اصولوں کے تابع رکھا اور عوام الناس کو مجھ سے بھی یہی توقع رکھنی چائیے کہ میں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہئے انہی کی روایات پر کار بند رہوں گا، ہم نے درگاہ کے معاملات کو کبھی بھی بزنس یا معاشی ضرورت کا حصہ نہیں بنایا نہ بنائیں گے، درگاہ، خانقاہ، مسجد اور مدرسہ خالصتاً دینی اور روحانی مقاصد کیلئے ہیں ، یہاں کوئی سیاست نہیں ہو سکتی،میری پوری کوشش ہے کہ میرے بزرگوں نے جس طرح اپنی زندگی میں آزاد کشمیر سمیت ملک کے دینی مدارس اور مساجد کی خدمت جاری رکھی میں بھی ایسا ہی کروں گا،زائرین پیر بکوٹی کے مہمان ہیں، ان کی عزت اور قیام و طعام کی ذمہ داری ہماری ہے، وہ جو کچھ لاتے ہیں ان کی خدمت کی صورت میں انہیں ہی واپس لوٹا دیاجاتا ہے،یہا ں میںایک اور بات واضح کر دوں کہ ہم روحانیات کو بزنس نہیں ایک مشن سمجھتے ہیں،میرا اپنا کاروبار ہے، میرے برادر بزرگ صاحبزادہ پیر محمد اظہر بکوٹی قیمتی پتھروں کا کاروبار کرتے تھے، میرے فرسٹ کزنز صاحبزادہ پیر محمد عامربکوٹی  اور صاحبزادہ پیر محمد عبدالماجدبکوٹی سکول ٹیچر تھے،ہماری اولادیں بھی ملازمت پیشہ اور کاروباری لوگ ہیں اور ہم سب پیر بکوٹی کے مہمانوں کے میزبانوں کی حیثیت سے ان کی عزت اور خدمت کرتے ہیں،درگاہ پر ایصال ثواب کیلئے روزانہ تین سو سے زائد پیر بکوٹی کے مہمان آتے ہیں اور فیض حاصل کرتے ہیں۔
سوال: اس موقع پر آپ عوام علاقہ اور پیر بکوٹی کے عقیدتمندوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میرا پیغام ان سب کیلئے ایک شعر کی صورت میں حاضر ہے۔
زبان میری ہے بات ان کی،انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی، انہی کی محفل سجا رہا ہوں 

********************************