Friday, December 30, 2016

ثنا خوان رسول جنید جمشید حضرت پیر بکوٹی کے سسرالی پجہ شریف کے قاضیوں کے داماد تھے
  ان کی اہلیہ نیہا جمشید پجہ شریف میں پیر بکوٹیؒ کی اہلیہ گل نقشہ بیگم (مائی صاحب) کے سگے بھتیجے ٹیچر عبدالرحمان کی پوتی تھیں
، انتقال کے فوراً بعد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کی اہلیہ کرنل یاسمین اپنی دو بچیوں مریم ضیا اور سحرش ضیا کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئیں تھیں

**************************

تحقیق و تحریر

محمد عبیداللہ علوی 

**************************

ثنا خوان رسول جنید جمشید مرحوم کے ساتھ طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والی ان کی اہلیہ نیہا جمشید کا تعلق حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؓ کے آزاد کشمیر میں چکار کے قریب درگاہ پجہ شریف کے قاضی خاندان سے تھا اور وہ پجہ شریف میں ان کی اہلیہ گل نقشہ بیگم (مائی صاحب) کے سگے بھتیجے ٹیچر عبدالرحمان کی پوتی تھیں ، نیہا جمشید کا اصل نام مریم ضیا تھا جبکہ ان کے والد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کا19 فروری 1992  کو دوران سروس انتقال ہوا تھا، انتقال کے فوراً بعد کرنل قاضی ضیاالرحمان انور کی اہلیہ میانوالی کے اعوان قبطیلہ سے تعلق رکھنے والی کرنل یاسمین اپنی دو بچیوں مریم ضیا اور سحرش ضیا کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئیں تھیں۔
یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ ۔۔۔۔ ہر ماں کو اپنا بچہ نو ماہ تک اپنے پیٹ میں رکھ کر ہی اسے دنیا میں لانا پڑتا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ۔۔۔۔ اس لیبر کے عوض ماں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بعد سب سے بڑا مقام ملتا ہے،ماں کو اولاد کیلئے دنیا کی سب سے بڑی ہستی قرار دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ایک انسان کے بعد از مرگ سب سے بڑے خواب یعنی جنت الفردوس کو بھی ماں کے قدموں تلے رکھ دیا گیا ہے ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ ماں جب اپنی اولاد کو اپنے ان لہو کے رشتوں یعنی ددھیالیوں سے ہی متنفر کر دے ۔۔۔۔ انہیں ان کی اصل کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ۔۔۔۔ انہیں حالات کے حوالے کر کے بے نسب اور بے اصل بنا دے، ان کے رشتے ناطے میں بھی اس کے ان خونی رشتوں کو بلایا جائے نہ ان سے کوئی صلاح ہی کی جائے تو وہ زندگی بھر اپنی شناخت کو دھونڈتے رہتے ہیں ۔۔۔ تو میرے خیال میں ۔۔۔ ایسی عورت ماں کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی ۔۔۔ وہ اولاد جننے والی ڈائن اور خود ایک بے نسبی اور بے اصلی عورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ جنید جمشید کی اہلیہ نیہا جمشید کے ساتھ بھی ایسا ہی المیہ ہوا  ہے ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔ اگر جنید جمشید جیسا عاشق رسول اس بات سے آگاہ ہوتا کہ ۔۔۔۔ نیہا (مریم ضیا) کا تعلق ۔۔۔۔ آزاد کشمیر ، ہزارہ اور سرکل بکوٹ کے مجدد حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کے اس محسن خاندان سے ہے جس نے  ۔۔۔ در یتیم  پیر فقیراللہ
بکوٹیؒ کی پرورش کی ، انہیں جوان کیا اور ان کے عقد میں اپنی بیٹی بھی دی ۔۔۔۔ تو جنید جمشید پجہ شریف اور بکوٹ شریف سر کے بل چل کر آتے اور حضرت پیر بکوٹیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے۔۔۔۔ کاش ایسا ہوتا
مریم ضیا (نیہا جمشید) اور سحرش ضیا (رمشا ضیا) کے والد کرنل  قاضی ضیا الرحمان انور کے والد قاضی عبدالرحمان ریالہ اور مولیا میں استاد بھی رہے، ان کے قاضی ضیا کے علاوہ دو اور فرزند بھی ہیں، ایک قاضی سجاد تھے جن کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے اور سب سے چھوٹے قاضی محمودالرحمان مظفر آباد میں ٹیچر ہیں، ان کے دادا قاضی ولایت اللہ بھی چار بھائی تھے جن میں سے قاضی ولی احمد ۔۔۔۔ حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی کے خسر تھے، ان کی بیٹی ۔۔۔۔ گل نقشہ بیگم ۔۔۔ پیر بکوٹی کی سب سے چھوٹی اور آخری اہلیہ تھیں، ان کا مزار مائی صاحبہ کے نام سے پجہ شریف میں موجود ہے اور یہاں پر ہر سال نومبر میں قاضی محمود الرحمان عرس بھی کرواتے ہیں۔
بیروٹ کے علوی اعوان اور پجہ شریف کا قاضی خاندان قومی کوٹ آزاد کشمیر کے حافظ جان محمد کی اولاد سے ہیں اور یوں اج کے قومی کوٹ، رحیم کوٹ،پجہ شریف وغیرہ کے قاضی صاحبان اور بیروٹ کے علوی آعوان آپس میں کزنز ہیں، اعوان مورخ محبت حسین اعوان نے اپنی کتاب ۔۔۔۔ تاریخ علوی آعوان (مطبوعہ1999 کراچی) ۔۔۔ کے صفحہ 772 پر ایک تفصیلی شجرہ نسب دیا ہے جس میں پجہ شریف کے قاضیوں اور بیروٹ کے علوی اعوانوں کی تفصیلات موجود ہیں ۔۔۔ بیروٹ میں علوی اعوانوں کے جد امجد ۔۔۔ مولانا قاضی نیک محمد علوی 1830-40 کے درمیان یہاں کے کاملال ڈھونڈ عباسی خاندان کی دعوت پر تشریف لائے، انہیں یہاں جائیداد بھی ہبہ کی گئی اور انہوں نے محمود خان عرف بھاگو خان، عاقی خان اور دیگر کے ساتھ مل کر بیروٹ کی دوسری جامع مسجد بھی تعمیر کی،اسی مسجد میں حضرت پیر بکوٹیؒ نے بھی تقریباً دس سال تک امامت و خطابت فرمائی اور کوہسار بھر میں اسی مسجد میں پہلی بار نماز جمعہ کا بھی 1907 میں آغاز کیا، کاملال ڈھونڈ عباسی خاندان نے انہیں بھی سترہ کنال اراضی ہبہ کی، یہاں پر ہی انہوں راقم الحروف کے پڑدادا حضرت مولانا قاضی عبدالعزیز علوی کی بیوہ بیٹی ستر جان سے عقد کیا، ان کے بیٹے حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹیؒ میرے دادا حضرت مولانا قاضی میاں میر جی کے داماد تھے، میرے چچا اور مفتی سرکل بکوٹ مولانا عبدالہادی علوی ۔۔۔۔ پیر بکوٹیؒ کے پوتے صاحبزادہ عبدالماجد ماجد بکوٹیؒ کے خسر ہیں جبکہ ۔۔۔۔ میرا  بھتیجا اور سابق ٹیچر محمد طاہر علوی مرحوم کا بڑا بیٹا طیب طاہر علوی ۔۔۔۔ صاحبزادہ عبدالماجد بکوٹیؒ کا داماد ہے ۔۔۔۔ جب پیر بکوٹیؒ کے ساتھ راقم الحروف اتنے رشتوں میں پرویا ہوا ہو تو ۔۔۔ پیر بکوٹیؒ سے متعلق ہر نیوز اس کی اپنی خبر ہوتی ہے  اور وہ اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔۔۔ جنید جمشید کی رشتہ داری پر بیروٹ کے علوی اعوانوں کو بھی فخر ہے ۔۔۔۔ کاش ایک بے اصل اور بے نسب خاتون کی انا آڑے نہ آتی۔۔۔ اور یہ ثناخوان رسول گلشن پیر بکوٹیؒ کا بھی بُلبل ہوتا۔


**************************
نہ چھیڑ ان خرقہ پوشوں کو، ارادت ہو تو پوچھ ان سے 
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی آستینوں میں
**********************
فلسطینی زیتون کے اوریجنل باغات
 سرکل بکوٹ میں حضرت پیر بکوٹیؒ کی جائیداد میں ہیں ۔
----------------------------
نبی خاتم الزماں ﷺ نے آپؒ کو فلسطین سے مرحمت فرمائے تھے اور انہیں للال شریف کی لیتری میں لگانے کا حکم دیا تھا ۔
----------------------------
زیتون کے یہ پودے برٹش فوج کا ایک کشمیری ملازم ۔۔۔۔ فضل الٰہی ۔۔۔۔ فلسطین سے پہلے بیروٹ لایا اور وہاں سے للال شریف ۔
----------------------------
یہ میرے زیتون ہی نہیں ۔۔۔۔ میرے آم کے درخت بھی ہیں ۔۔۔۔ حضرت پیر بکوٹیؒ
----------------------------
خانوادہ پیر بکوٹیؒ کی اجازت سے جتنے چاہیں یہ ،،،، کووگُلیاں،،،، کھائیں، کسی نے ان درختوں کو نقصان پہنچانے یا چوری کی کوشش کی تو  اس کی ٹانگ یا بازو بلکہ مقدر بھی سلامت نہیں ۔
************************
روایت بشکریہ
 محمد امین
 (پڑ پوتا فضل الٰہی مرحوم، ضلع باغ، آزاد کشمیر
***********************

    اہل کوہسار میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ میں فلسطینی زیتون کے اوریجنل باغات کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟ اس کے بارے مین اہم انکشاف یہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ اوریجنل فلسطینی زیتون کے باغات للال شریف بکوٹ میں ہیں جنہیں زمانے کے مجتہد اور انتہائی پرآزمائش وقت میں اہل کوہسار کے روحانی پشتی بان ۔۔۔۔۔ حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ ۔۔۔۔ اپنے آم کے باغات کہا کرتے تھے ۔
ٍ    حضرت کے ایک مرید کا نام فضل الٰہی تھا ۔۔۔۔۔ تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تھا اور وہ برٹش فوج میں ملازم بھی تھا ۔۔۔۔ جب بھی چھٹی آتا حضرت پیر بکوٹیؒ کی قدم بوسی کیلئے بیروٹ ضرور آتا اور جاتے وقت حضرتؒ سے پوچھتا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں ۔۔۔۔؟ حضرت پیر بکوٹیؒ نئے نئے للال شریف بکوٹ منتقل ہوئے تھے ۔۔۔۔ ابھی بس اپنی قیام گاہ اور مسافر خانہ ہی تعمیر کروایا تھا ۔۔۔۔۔ للال شریف کی یہ جگہ بکوٹ کے موجوال عباسیوں کی لیتری تھی اور سنتھے اور تہمن کے چند بوٹے ہی یہاں تھے بلکہ جہاں آپ اپنے لئے دو کمروں کا ذاتی گھر اور مسافر خانہ بنوا رہے تھے وہاں ایک بٹکاڑاور ایک دریک کے درخت سایہ کیلئے موجود تھے ۔
    وہ مرید بھی چھٹی آیا تو دوسرے روز کھوہاس، بیروٹ جا پہنچا مگر اہل بیروٹ نے اسے پیر بکوٹیؒ کی للال شریف ہجرت کے بارے مین بتایا ۔۔۔۔ بیروٹ کی کیٹھوال راجپوت برادری کے چند برگ بھی اس کے ساتھ ہو لئے اور یہ قافلہ کنیر عبور کرنے کے بعد براستہ ہوتریڑی، ہوترول اور بھن، بیروٹ خورد سے للال شریف جا پہنچا ۔۔۔۔۔ فضل الٰہی اپنے ساتھ گھی کی ایک گلنی اور ایک بغروٹہ بھی لایا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے گھی کھوہاس، بیروٹ میں پیر بکوٹیؒ کی اہلیہ ستر جانؒ (راقم السطور کے والد مرحوم کی سگی پھوپھی صاحبہ، ان مزار بھی کھوہاس، بیروٹ میں ہے) کی نذر کیا اور بغروٹہ ساتھ رکھا ۔۔۔۔۔ اس نے ایک بڑے تھیلے میں کچھ چپیں (چھوٹے چھوٹے پودے) بھی کندھے پر رکھے ہوئے تھے، بیروٹ میں بھی باوجود اصرار کے اس نے یہ تھیلا کھولا نہ یہ چپیں ہی دکھائیں اور کہا کہ یہ حضرت صاحبؒ کی امانت ہیں ۔۔۔۔۔ رات کو جب سب لوگ سو گئے تو وہ رکوع و سجود میں مشغول پیر بکوٹیؒ کے مصلیٰ کے قریب پہنچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ اتنے میں آپؒ نے سلام پھیرا تو وہ آگے بڑھا اور بولا ۔۔۔۔
حضرت ۔۔۔۔ آپ کی امانت حاضر ہے ۔۔۔۔۔ مجھے آپ نے خواب میں کہا تھا کہ پیغمبروں کی تہرتی سے میرے لئے زیتون کے بوٹے لانا ۔۔۔۔ حضرت ۔۔۔۔ نوکری سے چھٹی کی وجہ سے دیر ہو گئی، معافی چاہتا ہوں ۔۔۔۔ آپ قبول فرماویں ۔
ہاں ۔۔۔۔ ہاں، میں خاتم الرسل ﷺ کی محفل میں بیٹھا تھا کہ آپﷺ نے مجھے طلب فرمایا اور میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمانے لگے ۔۔۔۔۔ فقیراللہ ۔۔۔۔۔ تم نے بکوٹ ہجرت کر کے بہت اچھا کیا ۔۔۔۔۔ جنہوں نے تجھے یہ ویرانے دئیے ہیں ان خاندانوں کا ہر فرد میرے پاس ہر دور میں آتا رہے گا اور وہ تیرے اور تیری اولاد کے لئے ہمیشہ مخلص رہیں گے ۔۔۔۔۔ تجھے فلسطین سے زیتون کے پودے بھجوا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ انہیں اپنی اس پتھریلی زمین میں لگائو ۔۔۔۔ تم اور تمہاری اولاد اور مخلوق خدا بہت نفع پاوے گی ۔۔۔۔۔۔ ،،،،،،
آپؒ نے اس ٹھنڈی کالواخ رات میں فضل الٰہی کے تھیلے سے وہ سارے پودے نکالے ۔۔۔۔ اور ان کو چومنے لگے، اپنے کوزے سے ان پر پانی کا چھڑکائو بھی کیا اور بولے ۔۔۔۔۔ صبح ان سب کو میں خود لگائوں گا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد فضل الٰہی بھی ان کے ساتھ تھا ۔۔۔۔۔ آپؒ برچھی سے سوراخ بناتے اور وہ اس میں زیتون کا پودا لگاتا جاتا     آج پیر بکوٹی کی للال شریف کی جائیداد میں یہ فلسطینی زیتون ایک باغ کا روپ اختیار کر چکا ہے ۔۔۔۔۔ اس کی ۔۔۔۔ کو گُلہاں ۔۔۔۔ شہد کی طرح میٹھی ہیں ۔۔۔۔۔ آپ خانوادہ پیر بکوٹیؒ کی اجازت سے جتنی چاہیں یہ کھائیں لیکن اگر آپ کے من میں یہ ہو کہ آپ ان درختوں کو نقصان پہنچائیں گے، چوری سے اس کی قلمیں کاٹ کر لے جاویں گے تو ہمیشہ یہ یاد رکھئیے گا کہ ۔۔۔۔۔ ایسی سوچ آتے ہی یا آپ کا بازو نہیں یا ٹانگ نہیں اور آپ اپنا لک (کمر بھی اور مقدر بھی) بھی وہاں ہی چھوڑ آویں گے ۔۔۔۔۔ شک ہے اگر تو تجربہ کر کے دیکھ لیں کیونکہ ذاتی تجربے کا کوئی مول اور متبادل نہیں ۔
    راقم السطور کو یہ پتا تو نہیں کہ ۔۔۔۔۔ اگر سرکل بکوت کے جنگلی کہو کے درختوں (Indian Olive) کو اصلی زیتون بنانے کیلئے موجودہ سجادہ نشین حضرت صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی مدظلہ العالی قلم کاری کے سلسلے میں کیا موقف رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہی بہتر جانتے ہیں ۔۔۔۔ تاہم اگر وہ حضرت پیر بکوٹیؒ کے ان آموں کے درختوں یعنی فلسطین کے اصل زیتون کی قلم ضرورت مندوں کو عطا فرماویں تو میرے خیال میں یہ بھی صدقہ جاریہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔؟
--------------------
اتوار16/ستمبر2018

اگر حضرت پیر بکوٹی
ؒ ہمارے سرکل بکوٹ، کوہ مری اور کشمیر کی دھرتی پر نہ آتے تو ۔۔۔۔؟

-----------------
آج ان علاقوں میں ایک مسلمان بھی نہ ہوتا
-----------------
کیونکہ ۔۔۔۔۔۔
انگریزوں نے اس علاقے کے لوگوں کو مرزا قادیانی کے ذریعے گمراہ کرنے کا ٹھیکہ دے دیا تھا ۔
----------------
 1890 میں گھڑیال کرسچن سکول میں قادیانی ڈیسک قائم ہو چکا تھا اور مرزا کی گمراہی میں آنے کے بعد سرکاری نوکری بھی دی جانے لگی تھی
**************************************
تحقیق و تحریر
محمد عبیداللہ علوی
--------------------------
صحافی، بلاگر، مورخ و انتھروپولوجسٹ
**************************************

اور تو اور ۔۔۔۔۔ حضرت پیر بکوٹیؒ کے بیروٹ میں ایک برادر نسبتی ۔۔۔۔۔ میاں محمد جی علوی ۔۔۔۔۔ بھی اس قادیانی گمراہی میں آ چکے تھے اور انہیں برٹش سنسس ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ ٹو کی نوکری بھی ملی تھی ۔۔۔۔۔ انہوں نے 1890، 1910 اور 1911ء کی شرقی ہزارہ کی مردم شماری بھی کی تھی ۔۔۔۔۔ 1907ء میں ان کے بڑے صاحبزادے میاں محمد سلیمان علوی نے گورڈن کالج راولپنڈی سے اعلیٰ پوزیشن حاصل کر کے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی تو ۔۔۔۔ قادیاں کے شیطان کے حکم پر انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی بھیجنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں ۔۔۔۔ یہ بات کسی طرح مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کے خطیب ۔۔۔۔۔ مولانا محمد سعید الشمیریؒ آف روات، مری کو پتہ چل گئی (مولانا سعید الشمیری ؒبیروٹ کے حوالےسےؒ رشتے میں پیر بکوٹیؒ کے ہم زلف بھی تھے) ۔۔۔  انہوں نے اس کی اطلاع فوراً پیر بکوٹیؒ کو دی جس پر آپؒ نے بیروٹ کی دوسری بڑی مسجد ۔۔۔۔۔ کھوہاس ۔۔۔۔۔ میں پہلی بار نماز جمعہ کے قیام کا اعلان کیا اور فرمایا کہ یہ نماز جمعہ میں خود پڑھائوں گا ۔۔۔۔۔ جمعہ والے روز اہل بیروٹ کے علاوہ بکوٹ اور دیول تک کے فرزندان اسلام یہ نماز جمعہ پڑھنے کیلئے آ گئے ۔۔۔۔۔حضرتؒ نے پہلے خطبہ جمعہ دیا اور پھر فرمایا کہ فرضوں کے بعد آپ نے جانا نہیں اور دعا کریں گے جس میں تمام نمازیوں کا ۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔۔ کہنا ضروری ہے
    بیروٹ میں پہلی نماز جمعہ کے فرضوں کے بعد حضرت پیر بکوٹیؒ نے بارگاہ رب العزت میں ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کی  کہ ۔۔
****** یا رب دو جہاں ۔۔۔۔۔ اگر میرا بھتیجا محمد سلیمان علوی کوہسار کے مسلمانوں کیلئے فائدہ مند ہے ۔۔۔۔ُ تو دین اسلام کیلئے اس سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو میں ان مسلمانوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ تو اس کی زندگانی میں برکت عطا فرما اور اس کو مسلمانوں کیلئے باعث رشد و ہدایت بنا ۔۔۔۔۔ تمام نمازیوں نے ان کے ساتھ کہا ۔۔۔۔۔ آمین
پھر ایک دو منٹ کیلئے خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔۔ حضرت پیر بکوٹیؒ کی پھر رندھی ہوئی آواز ابھری ۔
یا اللہ ۔۔۔۔۔۔ اگر میرا بھتیجا ۔۔۔۔۔ محمد سلیمان علوی ۔۔۔۔۔ گمراہ ہو کر قادیانیت قبول کر چکا ہے یا کرنے والا ہے تو ۔۔۔۔ ربا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ خود گمراہ ہو جاوے یا اس خطہ کے مسلمانوں کو گمراہ کرے  ۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔۔  تو اسے اٹھا لے ۔۔۔۔۔ حضرتؒ کے مصلے کے عین پیچھے محمدسلیمان علوی کے والد اور برٹش  سنسس ڈیپارٹمنٹ کے ملازم مولانا میاں محمد جی علوی منہ کے بل گر کر بے ہوش ہو گئے اور دیگر نمازیوں نے باآواز بلند کہا ۔۔۔۔۔ آمین
    میاں محمد سلیمان علوی ۔۔۔۔۔ جامع مسجد راولپنڈی میں مولانا محمد سعید الشمیری کے پیچھے نماز جمعہ ادا کر کے باہر نکلا ۔۔۔۔۔ سڑک کراس کر رہا تھا کہ ایک سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی زد میں آ گیا ۔۔۔۔ وہ نیچے گرا اور اس گھوڑے نے اپنے چاروں سموں سے اس کا چہرہ بھی مسخ کر دیا ۔۔۔۔۔ پیر بکوٹیؒ نماز جمعہ پڑھا کر بکوٹ روانہ ہوئے ابھی آدھا گھنٹہ نہیں گزرا تھا کہ ۔۔۔۔۔ کوہالہ ٹیلیگراف آفس میں موصول ہونے والی ایک تار یا ٹیلیگرام لیکر سرکاری اہلکار بیروٹ کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔ مگر یہ خبر اس سے پہلے بیروٹ میں والدین کے پاس پہنچ گئی کہ ۔۔۔۔۔ محمد سلیمان علوی واصل جہنم ہو چکا ہے اور اس کی لاش اس قابل نہیں کہ اسے بیروٹ لایا جاوے، اسے پیر ودھائی قبرستان  راولپنڈی میں ہی دفن کیا جاوے گا ۔
    حضرت پیر بکوٹیؒ نے ۔۔۔۔۔ جہاد کشمیر اور کوہسار میں قادیانی سرگرمیوں کے انسداد کیلئے ایک چھاپہ مار ۔۔۔۔۔ تنظیم المجاہدین ۔۔۔۔۔۔ بھی تشکیل دی تھی، اس تنظیم نے غربی کوہالہ اور کشمیری بازار مری میں انگریزوں کی عیاشی کیلئے قائم میخانوں (اور بعض روایات کے مطابق قحبہ خانوں) کو ایک رات کارروائی کر کے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا ۔۔۔۔ اس تنظیم نے کرسچن ہائی سکول گھڑیال میں قائم قادیانی مرکز پر بھی حملہ کر کے دو کو واصل جہنم اور متعدد کو زخمی کر دیا ۔۔۔۔ مال روڈ مری پر مرزائیوں کے چیلوں کی نام نہاد عبادتگاہ کو بھی نذر آتش کیا ۔۔۔۔ بیروٹ میں نماز جمعہ کے بعد کوہ مری اور سرکل بکوٹ کے ہر گائوں کی مساجد میں نماز جمعہ ہونے لگی ۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ یہ مجاہدین ان مساجد میں کوہسار کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کو دین اور عقیدے کے لٹیروں کو ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی سازشوں سے بھی آگاہ کرنے لگے ۔۔۔۔۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کفر کا یہ سیلاب کوہ مری کے راستے انگریز حکومت کے شانوں پر بیٹھ کر سرکل بکوٹ اور موجودہ آزاد کشمیر میں آنے سے بھی رک گیا ۔۔۔۔۔ قارئین و ناظرین کیلئے یہ بات بھی باعث دلچسپی ہو گی کہ حضرت پیر بکوٹیؒ نے پہلی بار کوہالہ پل کو تباہ کرنے کی دھمکی دیکر ۔۔۔۔۔ دہلی اور سری نگر کی سرکاروں کو کہا کہ ۔۔۔۔۔۔۔
****** اگر مجھے پتہ چلا کہ ۔۔۔۔۔ کسی مسلمان کے ساتھ مرزا قادیان کے چیلوں کے کوئی تعلقات ہیں یا ۔۔۔۔۔ وہ کسی مسلمان کو کافر بنانا چاہتے ہیں تو ۔۔۔۔ کوہالہ پل، یہاں موجود سرکاری عمارات، مری میں سرکاری املاک اور سرکاری اہلکار نہیں بچ پائیں گے ۔۔۔۔۔قادیانت نوازروزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کی 13 مئی، 1907ء کی اشاعت کے مطابق پنجاب حکومت نے قادیانوں کو کوہ مری سے اپنی مذموم سرگرمیاں محدود کر کے فوراً لکلنے کی تنبیہہ بھی کر دی تھی ۔۔۔۔۔
    کیا یہ پیر بکوٹیؒ کا کوہسار کے فرزندان اسلام پر ۔۔۔۔۔ احسان عظیم ۔۔۔۔۔ نہیں ہے ۔۔۔۔کہ آج ہم اہل کوہسار الحمدللہ ۔۔۔۔۔ ایک اللہ کو ماننے والے اور ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے سب سے بڑے محافظ اور نگہبان ہیں ۔۔۔۔۔ خداوند قدوس حضرت پیر بکوٹیؒ اور ان کے روشن ضمیر کوہساری رفقاٗء کو ناموس اور ختم رسالت ﷺ کے تحفظ اور راخیالی پر کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرماوے اور ساقی کوثر ﷺ کے دست مبارک سے جام کوثرنصیب کرے ۔۔۔۔۔ آمین
    زمانہ طالب علمی میں راقم السطور نے پنجاب یونیورسٹی اور جامعہ کراچی میں روزنامہ زمیندار، روزنامہ انقلاب اور قادیانی نواز انگریزی روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کا مطالعہ کیا تھا اور وہاں سے مندرجہ بالا پوائنٹس بھی خبروں کی شکل میں نوٹ کئے تھے اور آج حضرت پیر بکوٹیؒ کے حوالے سے پیش کرہا ہوں ۔۔۔۔ اگر آپ بھی اپنی تاریخ، سیاست وغیرہ جاننے کیلئے ان اخؒبارات سمیت دیگر اخبارات اور میگزین دیکھنا چاہیں تو ان کی مائیکرو فلمیں ۔۔۔۔۔ National Archives of Pakistan کی اسلام آباد لائبریری مل سکتی ہپیں ۔۔۔۔۔ یہ ادارہ اٹامک انرجی کمیشن، ہیڈکوارٹر، عقب پاک سیکرٹیریٹ اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی لائبریری اور جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔
************************
ایک اور ضروری بات
-----------------------
جن مولانا میاں محمد جی علوی کا اس پوسٹ میں ذکر کیا گیا ہے وہ راقم الحروف کے کے دادا جی مولانا میاں میر جی علویؒ (المتوفی 1948ء) کے سگے چھوٹے بھائی تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بیروٹ میں ان کا گھر ناڑوٹہ میں تھا ۔۔۔۔۔ ان کا دوسرا بیٹا میاں محمد لقمان علوی بھی چیچک کی وباء کی نذر ہو گیا تھا، مولانا میاں محمد جی علوی کا انتقال 1943ء میں ہوا اور کھوہاس مسجد کے جنوب میں بیروٹ کے اجتماعی علوی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔
----------------------------
جمعرات15/نومبر2018
   

Monday, November 21, 2016

Pir Bakoti 94th Urs ceremony,


حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کا سالانہ عرس بکوٹ شریف میں اختتام پذیر، پیر صاحب چورہ شریف کی خصوصی شرکت
 **********************
حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کا سالانہ عرس  اتوار کوللال شریف ،بکوٹ میں اختتام پذیر ہو گیا ہے، عرس کے آخری روز حضرت پیر سعادت علی شاہ، سجادہ نشین چورہ شریف ، اٹک اور چکوال سے عبدالقدیر اعوان سمیت علمائے کرام نے حضرت پیر بکوٹیؒ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی روحانی اور دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ اس موقع پر قاری تنزیل الرحمٰن جدون اور دیگر ثنا خوانوں نے بارگاہ امام الانبیا ﷺمیںنذرانہ عقیدت پیش کیا، تقریب کی صدارت سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی نے کی۔
اس اجتماع کی چند جھلکیاں اس طرح سے ہیں:۔
   پہلی بار یہ اجتماع مزار شریف کے بجائے اس سے متصل پیر بکوٹی مسجد میں ہوا۔
  پہلی بار پیر صاحب چورہ شریف حضرت پیر سعادت علی شاہ، چکوال سے عبدالقدیر اعوان اور مری کے مولانا سیف اللہ سیفی نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔
  اس اجتماع میں پہلی بار صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی کے فرزند صاحبزادہ پیر محمد حسین بکوٹی نے بھی خطاب کیا۔
  اس بار نامعلوم تخریب کاروں کی جانب سے مزار شریف کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی گئی تھی تا ہم بکوٹ پولیس کے ایس ایچ  گلزار خان جدون کی طرف سے فول پروف سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیابلکہ حضرت پیر بکوٹی ؒکے مہمانوں کی تعداد پہلے سے کئی گنا زیادہ تھی۔
  عرس کے انتظامات کی ذمہ داری پہلے کی طرح حکیم ڈاکٹر محمود احمدجدون قادری آف اوسیا کے پاس تھی جو انہوں نے خوب نبھائی، انہوں نے نارنجی رنگ کا چغا بھی صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی کو پیش کیا۔
عرس کے پہلے دوایام کے دوران بعد نماز عشا محافل نعت منعقد کی گئیں جن میں معروف ثنا خوانوں نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عقیدتوں کے نذرانے پیش کئے۔

عرس کے آخری روز علمائے کرام اور دیگر مقررین کے علاوہ آستانہ عالیہ قادریہ للال شریف بکوٹ کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی نے پیر بکوٹیؒ کے مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ۔۔۔۔  مسلمان فرقہ واریت ترک کر کے اسلامی پرچم تلے مجتمع ہوں،اور شرک جیسے گناہ کبیرہ سے اجتناب کریں، حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ نے اپنے دلنشیں انداز بیاں اور فکرو عمل سے اس کوہسار کے ایک ایک فرد تک خدا اور اس کے رسولﷺ کا پیغام پہنچایا،یہی وجہ ہے کہ آج ان کے عقیدتمند ان کی ان خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ان کی اس ابدی آرام گاہ پر حاضر ہوئے ہیں  ۔۔۔۔  اس موقع پر ملک و قوم کی ترقی، ملک میں اسلام کی سر بلندی اور باران رحمت کیلئے سید سعادت علی شاہ آف چورہ شریف، اٹک نےدعا کی اور اس کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔
عرس تقریبات ۔۔۔۔ کیمرے کی آنکھ سے
 
 
 
 
 


Sunday, November 22, 2015

First Urs ceremony of Pir Bakoti after death of Sahibzada Pir Azher Bakoti
Held on 
22 Nov, 2015

بکوٹ شریف: سجادہ نشین صاحبزادہ پیرمحمدزائربکوٹی عرس کے اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
**************************************
ہفت روزہ نوائے مری، 14 اگست، 2916


*****************************
زبان میری ہے بات ان کی،انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی، انہی کی محفل سجا رہا ہوں
 سجادہ نشینی کے بعد 
صاحبزادہ پیرمحمدزائربکوٹی
 کا پہلا انٹرویو
**************************************
ملاقات: عبیداللہ علوی
**************************************


حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی کوہسار کے ایک جید عالم دین ہی نہیں بلکہ وہ اپنے عہد کے وہ مجددہیں جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے سد سکندری کھینچ کر کفرو الحاد کے اس سونامی سے اہل اسلام کو بچا کر سرخرو کیا، آپ نے ہزارہ، کشمیر اور بالخصوص سرکل بکوٹ میں نہ صرف نماز جمعہ کا آغاز کیا بلکہ یہاں پر رائج قربانی کے جانوروں کا خون کو مقدس مشروب سمجھ کر پینے کی رسم قبیح کا بھی خاتمہ کیا، حضرت پیر بکوٹیؒ  کے وصال کو 93برس ہو چکے ہیں اور ان کے فیض کا چشمہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے، آپ کے 94عرس کے موقع پران کے پوتے اور موجودہ سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد زائر بکوٹی سے ایک روزنامہ آئینہ جہاں نے پہلا انٹرویو کیا گیا جو نذر قارئین ہے:۔
سوال:حضرت پیر بکوٹی  اپنے عہد کے مجدد تھے،انہوں نے کوہسار میں فکری، تمدنی اور فکری محاذ پر کیا کیا اصلاحات اور اقدامات کئے؟
جواب:حضرت پیرفقیراللہ بکوٹی  جو عرف عام میں حضرت صاحب کے نام سے بھی مشہور ہیں ایک ایسے عہد میں کوہسار تشریف لائے جب یہاں کے باسی یاسیت اور نا میدی کے سمندر میں غوطے لگا رہے تھے،انہوں نے لوگوں کو اس بحر ظلمات سے نکال کر نیا جوش، ولولہ اور جینے کی امید بخشی اور ان کی منازل بلندیوں پر متعین کیں،یہاں پر سب سے پہلے فروغ تعلیم اور پھر کشمیر میں انٹی ڈوگرہ کارروائیوں کے لئے تحریک المجاہدین کی بنیاد ڈالی اور اس کی عمر بھر آبیاری بھی کرتے رہے۔
سوال: حضرت پیر بکوٹی کے خانوادے کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور کہا بھی جا رہا ہے، پیر صاحب کے خاندانی پس منظر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: حضرت پیر بکوٹی اپنے عہد کے ایک مجدد تھے اور انہوں نے اپنے ایمان افروز اقدامات سے کوہسار کے سماج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، ایسی شخصیات اس وقت ظہور پزیر ہوتی ہیں جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے، حضرت پیر بکوٹی کا تعلق ہزارہ سے تھا اور ان کے والدین بسلسلہ تنلیغ دین کشمیر آئے تھے، انہوں نے چکار کے علاقے پجہ شریف کے نواح میں کنڈان شکریاں اور بعد میں چھپڑیاں میں قیام کیا ، یہ مقام کوہالہ کی جانب ایک گزرگاہ پر تھا جہاں سے ہر وقت  مسافر گزرتے رہتے تھے جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل تھے، حضرت پیر بکوٹی کے والدین نے عوام علاقہ کے تعاون سے یہاں ایک لنگر خانہ قائم کیا اور مسافروں کی خدمت کرنے لگے، اس کا اثر یہ ہوا کہ اس پسماندہ علاقے کو نہ صرف شہرت  ملی بلکہ یہاں پر ایک بازار بھی بن گیا اور حضرت پیر بکوٹی کی کوششوں سے مقامی لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی، صرف اتنا ہی نہیں ہوا بلکہ جب سکھوں نے کشمیر پر یلغار کی تو پونچھ بھر سے لوگوں نے پناہ کیلئے اسی مقام کو منتخب کیا اور سکھوں کے خلاف بے جگری سے لڑ کر اسے دارالامن بنا دیا،لگ بھگ 1830-35ء کے دوران حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کی ولادت ہوئی، آپ سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے، ان کے دو بھائی اور بھی تھے، بڑے بھائی بعد میں خاکی جا کر آباد ہوئے اور ان کی اولاد آج بھی وہاں پر موجود ہے جبکہ چھوٹے بھائی بنگال چلے گئے اور پھر واپس نہیں آئے، حضرت پیر بکوٹیؒ ابھی دس سال کے ہی تھے کہ پہلے ان کی والدہ ماجدہ اور چھ ماہ بعد ان کے والد مولانا تاج محمد بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے،  ایسے میں ان کی اور ان کے دیگر بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری پجہ شریف کے قاضی خاندان نے سنبھالی جہاں ان کی ایک ہمشیرہ بیاہی ہوئی تھی، آپ سولہ سال کی عمر تک وہاں ہی رہے اور پھر رجوعیہ شریف (حویلیاں) آ گئے اور اس وقت کے عصری اور دینی علوم میں سند فراغت  حاصل کیٍ، اپنے استاد محترم کے کہنے پر آپ سوات چلے گئے جہاں آپ نے حضرت پیر عبدالغفور اخوند صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور سلوک کی منازل میں بھی کاملیت حاصل کی اسی عرصہ میں انہوں نے  سکھوں کی خون آشامی بھی دیکھی اور جہادمیں حصہ لیا اور اس کے بعد اپنے مرشد کے حکم سے وہ کشمیر آگئے اور عملی تبلیغ دین کی شروعات کا آغاز کیا۔
سوال:جب ہم حضرت پیر فقیراللہ بکوٹی ؒکی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان ؎ کی حیات کے دو مشن ملتے ہیں، ایک اقاجمعہ المبارک،  دوسرا مساجد کا قیام،اس کے بارے میں آپ  کیا کہیں گے؟
جواب: اللہ تبارک و تعالیٰ کا حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ پر کرم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عہد کے جن علماء اور فضلاء سے استفادہ کیا ان میں سب سے اہم حضرت مولانا عبدالغفور سواتی المعروف اخوند صاحب ہیں، یہاں پر ہی آپ نے سلوک کی منازل بھی تہہ کیں، یہ زمانہ بڑا پر آشوب تھا اور سکھ مسلمانوں کی جا، مال اور عزت و آبرو سے کھیل رہے تھے،سکھ فوجوں کا سپہ  سا؛ار ہری سنگھ نلوہ جس جانب بھی جاتا لاشوں کے انبار لگا دیتا،حضرت پیر بکوٹی نے اس کیخلاف بھی اپنے پیر و مرشد کے حکم سے جہاد میںؓ حصہ لیا اور ہمیشہ کامیاب رہے،سکھوں کے طوفان بد تمیزی کے خاتمہ کے بعد پیر بکوٹی کو کوہسار اور کشمیر جانے کا حکم ملاتو آپ پھر کشمیر کے علاقے پجہ شریف آگئے،یہاں پر آپ نے مسجد کی تعمیر نو کی اور مدرسہ قائم کیا،یہاں سے فراغت کے بعد وہ پوٹھہ شریف تشریف لائے یہاں پر آپ نے حضرت پیر ملک سراج خان کی مسجد کی ڈھونڈ عباسیوں کے تعاون سے تعمیر نو کرائی اورلگ بھگ 1860ء وہاں پر پہلی بار نماز جمعہ کا آغاز کیا،اس کے بعد اوسیا ،بیروٹ اور آخر میں 1907ء میں آپ نے بکوٹ اور مولیا میں نماز جمعہ کی شروعات کیں۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی کی نماز جمعہ شروع کرانے میں کیا حکمت عملی کار فرما تھی؟
جواب:نماز جمعہ کا مطلب ایک اجتماع ہوتا ہے،حضرت پیر بکوٹی اس وقت کے حالات کے مطابق سمجھتے تھے کہ یہاں کے مسلمانوں کو کم از کم ایک ہفتے میں مل بیٹھنا چائیے،کیونکہ یہاں کے ہندو اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی سرپرسرستی میں مسلمانوں کا اقتصادی اور سیاسی استحصال کر رہے تھے،دوسری طرف مقامی علمائے کرام حضرت پیر بکوٹی کے نماز جمہ کی اقامت کے خلاف کمر بستہ تھے مگر انہوں نے اس کی پروا کئے بغیر اپنا مشن  یعنی نماز جمعہ کی اقامت کا آغاز کر ہی ڈالا، یہ آپ کا ایسا کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تابندہ و پائندہ رہے گا۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی  نے مرزائیت کو کوہسار میں آنے اور بڑھنے سے روکنے کیلئے بھی جہاد کیا، مگر کیسیـ؟
جواب: جی پاں۔۔۔۔۔۔ حضرت صاحب کی دور اندیش نگاہیں دیکھ رہی تھی کہ انگریزوں کی سرپرستی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلے کوہسار کے لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،یہ بھی روایت ہے کہ بیروٹ میںحضرت صاحب کے ایک برادر نسبتی مولانا میاں محمد جی اور اور ان کی اولاد مرزائی ہو چکے تھے یا ہونے والے تھے مگر حضرت صاحب کی مداخلت سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا،اوسیا میں قادیانیوں نے ایک مشنری سکول کھولنا چاہالیکن حضرت پیر بکو ٹی  نے یہ سازش بھی ناکام بنا دی،اسی طرح جب انیسویں صدی کے آخری عشرے میں انگریزی حکام نے کوہالہ اور کشمیری بازارمری میں قحبہ اور شراب  خانے کھولنے کی کوشش کی تو آپ نے اہلیان مری اور سرکل بکوٹ کے تعاون سے انہیں نذر آتش کروا دیا، یوں اہلیان کوہسار کفر کے طوفان سے بچ گئے بلکہ یہں پر فحاشی اور نشہ کے اڈوں کا بھی خاتمہ ہو گیا جو حضرت پیر بکو ٹی کا اس علاقے پر احسان عظیم ہے۔
سوال: حضرت پیر بکو ٹی کی درگاہ کے آج کل آپ گدی نشین ہیں، یہاں پر گدی نشینی کے معاملات کیسے آگے بڑھے، کیا کوئی مشکل وغیرہ تو پیش نہیں آئی؟
جواب: حضرت پیر بکو ٹی کاجب 1922ء میں وصال ہوا تو اس وقت آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت پیرعتیق اللہ بکو ٹی کی عمر 10اور چھوٹے صاحبزادے حضرت پیرحقیق اللہ بکو ٹی کی عمر صرف پانچ سال تھی،آپ کے خلفاء نے ان دونوںفرزندان حضرت پیر بکو ٹی کو ابتدائی تعلیم مڈل سکول بکوٹ میں دلوا کر بر صغیر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند بجھوا دیا جہاں  وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا عبیداللہ سندھی اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کے تلامذہ بنے، جب یہ صاحبزادگان واپس وطن ّئے تو سجادہ نشینی کی یہ امانت بزرگ مولوی صاحب نے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا پیر عتیق اللہ بکوٹی کے سپرد کی ، اس وقت بھی انہوں نے اپنے رفقا مولانا غلام حیدر، مولانا عطاء اللہ (آزاد کشمیر) مولانا اسماعیل علوی (بئروٹ)،مولانا سعید الشمیری اور راجہ نور خان (روات)، لنگر کے منتظمین اور حضرت پیر بکو ٹی کے سوتیلے ببیٹوں محمد صدیق، محمد رفیق اور محمد شفیق کے علاوہ دیگر صاحب الرائے حضرات سے مشاورت کی، کچھ عرصہ بعد سجادہ نشین حضرت مولانا پیر عتیق اللہ بکوٹی  جذب اور حالت استغراق میں چلے گئے جس پر انہوں نے درگاہ پیر بکوٹی کے معاملات  اپنے چھوٹے بھائی صاحبزادہ حضرت پیرحقیق اللہ بکو ٹی کے سپرد کرنا چاہے تا ہم اس وقت بھی اس معاملے بر کافی روز مشاورت کے بعد اس شرط پر انتظامات سنبھالے کہ سجادہ نشین تو صاحبزادہ حضرت  پیر عتیق  اللہ بکو ٹی ہی رہیں گے وہ صرف منتظم ہوں گے اور انہوں نے اپنا یہ فریضہ بھر پور طریقہ سے اپنی آخری سانسوں تک انجام دیتے رہے،صاحبزادہ حضرت پیرعتیق اللہ بکو ٹی کی وفات کے بعد آپ نے سجادہ نشینی کا منصب سنبھالاجو 1968ء تک ان کی وفات تک جاری رہا، اس کے بعد میرے برادر بزرگ صاحبزادہ پیراظہر بکوٹی سجادہ نشین بنے اور کی وفات کے بعد دراگاہ کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد سجادہ نشینی کی دستار میرے سر پر رکھی گئی۔
سوال: آپ سجادہ نشین ہیں اور اپنے علاقے کی اہک سرکردہ سیاسی شخصیت بھی،آپ درگاہ کے معاملات چلانے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں؟
جواب:میرے والد حضرت  پیر عتیق اللہ بکو ٹی اپنے زمانے کے ایم ایل اے تھے، برادر بزرگ صاحبزادہ اظہر بکوٹی ممبر ضلع کونسل رہے مگر انہوں نے روحانی فیض اور سیاست کو گڈ مڈ نہیں کیا، اسی طرح درگاہ کے معاملات کو بھی شریعت کے اصولوں کے تابع رکھا اور عوام الناس کو مجھ سے بھی یہی توقع رکھنی چائیے کہ میں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہئے انہی کی روایات پر کار بند رہوں گا، ہم نے درگاہ کے معاملات کو کبھی بھی بزنس یا معاشی ضرورت کا حصہ نہیں بنایا نہ بنائیں گے، درگاہ، خانقاہ، مسجد اور مدرسہ خالصتاً دینی اور روحانی مقاصد کیلئے ہیں ، یہاں کوئی سیاست نہیں ہو سکتی،میری پوری کوشش ہے کہ میرے بزرگوں نے جس طرح اپنی زندگی میں آزاد کشمیر سمیت ملک کے دینی مدارس اور مساجد کی خدمت جاری رکھی میں بھی ایسا ہی کروں گا،زائرین پیر بکوٹی کے مہمان ہیں، ان کی عزت اور قیام و طعام کی ذمہ داری ہماری ہے، وہ جو کچھ لاتے ہیں ان کی خدمت کی صورت میں انہیں ہی واپس لوٹا دیاجاتا ہے،یہا ں میںایک اور بات واضح کر دوں کہ ہم روحانیات کو بزنس نہیں ایک مشن سمجھتے ہیں،میرا اپنا کاروبار ہے، میرے برادر بزرگ صاحبزادہ پیر محمد اظہر بکوٹی قیمتی پتھروں کا کاروبار کرتے تھے، میرے فرسٹ کزنز صاحبزادہ پیر محمد عامربکوٹی  اور صاحبزادہ پیر محمد عبدالماجدبکوٹی سکول ٹیچر تھے،ہماری اولادیں بھی ملازمت پیشہ اور کاروباری لوگ ہیں اور ہم سب پیر بکوٹی کے مہمانوں کے میزبانوں کی حیثیت سے ان کی عزت اور خدمت کرتے ہیں،درگاہ پر ایصال ثواب کیلئے روزانہ تین سو سے زائد پیر بکوٹی کے مہمان آتے ہیں اور فیض حاصل کرتے ہیں۔
سوال: اس موقع پر آپ عوام علاقہ اور پیر بکوٹی کے عقیدتمندوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میرا پیغام ان سب کیلئے ایک شعر کی صورت میں حاضر ہے۔
زبان میری ہے بات ان کی،انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں
چراغ میرا ہے رات ان کی، انہی کی محفل سجا رہا ہوں 

********************************